رابطہ کیجئے

LightBlog

This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

بدھ، 23 فروری، 2022

بلاگ کیا ہے؟

 بلاگ کیا ہے؟

لفظ بلاگ در اصل ویب لاگ کا مخفّف ہے، جو انگریزی کے دو لفظوں web and log سے مل کر بنا ہے جو ایسی ویب سائٹس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس میں معلومات کو تاریخ وار ترتیب سے رکھا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ آن لائن کوئی لاگ بُک یا ڈائری مرتّب کر تے ہیں یا انٹرنیٹ کے ذریعے کسی ویب سائٹ پر لاگ اِن ہو کر کچھ لکھتے ہیں تو اس سارے عمل کو انٹرنیٹ کی جدید رائج اصطلاح میں ’’بلاگ‘‘ بنانا یا بلاگ نویسی قرار دے دیا جاتاہے۔

ویب لاگ (weblog) کا لفظ جان بارگر (Jorn Barger) نے پہلی دفعہ1997میں استعمال کیا تھا، اس کے بعد لفظ بلاگ کو پیٹر مرہولز (Peter Merholz) نے مزاحیہ انداز میں لفظ ’’ویب لاگ‘‘ کو توڑ کر we blog کے طور پر استعمال کیا اور یہیں سے پھر لفظ ’’بلاگ‘‘ مشہور ہوگیا۔ اب آپ کسی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پر بلاگ لکھتے ہیں؟ کِن موضوعات پر لکھتے ہیں؟ یہ آپ کی مرضی پر ہی منحصر ہے کیوںکہ عام خیال یہ ہی ہے کہ بلاگ کسی بھی موضوع پر تحریر کیا جاسکتا ہے۔ مگر زیادہ تر بلاگ نویس، اپنے بلاگ عموماً سماجی اور سیاسی موضوعات پر تحریر کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بلاگ کو جدیدطرز کی آن لائن ڈائری بھی کہا جاتا ہے، جس کو بلاگ نویس باقاعدگی سے پبلک میں شیئر کرتے رہتے ہیں، تاکہ ان کے جذبات، احساسات اور ردّعمل ان کے منتخب کردہ قارئین تک پہنچیں۔ پرانے زمانے میں جب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا کوئی وجود نہیں تھا، اکثر لوگ اپنی ڈائری لکھا کرتے تھے۔ مگر ڈائری اکثر دن بھر کی نجی مصروفیات کا احاطہ کرتی تھی۔ اس میں سماجی یا سیاسی موضوعات پر اپنے جذبات کی ترجمانی اکثر ناپید ہوتی تھی اور اِس قسم کی ڈائریاں عموماً مرنے کے بعد کبھی کبھار کتابی شکل میں بھی سامنے آجایا کرتی تھیں۔ ذاتی ڈائری اور بلاگ میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ ذاتی ڈائری آپ تک یا چند ایک قریبی دوستوں تک محدود ہوتی ہے، جب کہ بلاگ پوری دنیا کے سامنے کھلی کتاب کی مانند ہوتا ہے۔

جہاں آپ اپنی سوچ اور جذبات کے مطابق اپنے خیالات، احساسات، تجربات اور معلومات شیئر کرتے ہیں اور بذریعہ انٹرنیٹ سوشل میڈیا کے توسّط سے اپنے قارئین سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ بے حِس نہیں ہیں، اپنی بات کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، اور تنقید اور دباؤ برداشت کرسکتے ہیں۔ تو آپ کو اپنی سوچ، اپنے جذبات اپنے محسوسات اور معلومات دوسروں تک ضرور پہنچانی چاہیے۔ اور اِس کام کے لیے سب سے بہترین چیز بلاگ ہی ہے۔

لہٰذا جرأت کیجیے، میدانِ عمل میں آئیے، سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی بات کیجیے، کیوںکہ قوتِ اظہار کو بہتر انداز میں استعمال میں لانا ہر انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے۔ اگر آپ بھی بلاگ کی مدد سے اپنے پڑھنے والے کے ساتھ ایک بندھن بناسکتے ہیں، تو بلاشبہ آپ میں ایک اچھا بلاگ نویس بننے کی پوری صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے، بس اسے صحیح سمت میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر فیس بُک اور دوسرے سوشل میڈیا فورم وجود میں آجانے کے بعد بلاگ تحریر کرنا، اُن کی اشاعت کرنا، پھر لوگوں کا ردِّعمل جانچنا بہت آسان ہوگیا ہے۔

آپ اس کی فکر بالکل نہ کریں

 فانیلہ دل افروز کی خوشی کی کوئی انتہا ہی نہ رہی کہ چند روز بعد ہی اسے داخلہ کا پروانہ میسر آگیا، جب اُس نے یہ خبر اپنے گھر والوں کو سنائی تو وہ اس خبر پر خوش ہونے کے بجائے، گہری فکر میں چلے گئے اور فانیلہ دل افروز سے کہنے لگے کہ ’’بیٹا! ہمیں تمہارے ملک سے باہر تعلیم حاصل کرنے پر کسی بھی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن یہ تو بتاؤ ملک سے باہر جانے اور تعلیمی اخراجات کے لیے اتنی خطیر رقم آئے گی کہاں سے۔‘‘

’’آپ اس کی فکر بالکل نہ کریں رقم کا بندوبست ہے میرے پاس،آج سے ٹھیک دو سال پہلے میں نے تعلیم کے موضوع پر ایک بلاگ بنایا تھا، جو اب اتنا مشہور ہو چکا ہے کہ اشتہارات کی مد میں مجھے ٹھیک ٹھاک آن لائن رقم کما کر دے دیتا ہے، جب کہ مجھے اُمید ہے کہ میرا یہ بلاگ دورانِ تعلیم بھی میری خوب مالی مدد کرنے کے قابل ہے۔‘‘

فانیلہ دل افروز کے اس جواب نے اُس کے گھر والوں کی تمام فکر اور تردد کو رفو چکر کردیا اور یوں فانیلہ دل افروز اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ملک سے باہر روانہ ہوگئی۔ آج فانیلہ دل افروز بیرونِ ملک اعلٰی تعلیم بھی حاصل کر رہی ہے اور اپنی بہترین بلاگ نویسی کی بدولت اپنے تمام تعلیمی و رہائشی اخراجات بھی بغیر کسی کی مدد کے بحسن و خوبی پورے کر رہی ہے۔ یہ سب کچھ صرف بلاگ کی ہی وجہ سے ممکن ہوا۔ اس وقت بلاگ کی مدد سے عزت، شہرت اور دولت حاصل کرنے والوں کی ایک کثیر تعداد دنیا بھر میں موجود ہے۔